Aandhi Raat Ka Roushan Khuwab
آندھی رات کا روشن خواب
Aandhi Raat Ka Roushan Khuwab
آنکھوں کو چُھو رہے ہیں ستاروں کے نرم ہاتھ
پلکوں پہ آ رُکی ہے تمنائے کہکشاں
زُلفوں کے تار تار سے پُھوٹے ہیں مستیاں
ہونٹوں کو چھیڑتی ہے شرارت سے چاندنی
پیروں کی لخزشیں ہیں صراحی کی ہچکیاں
رستوں میں ہر طرف ہیں
گُل ِ یاسمن کِھلے
یہ لذت ِ خیال بھی سبد ِ وصال ہے
خوشبو میں کیوں نہ گوندھ لیں
کِرنوں کے ہار ہم
سُنتے ہیں چاندنی
یونہی برسے گی رات بھر
مجھ کو پُکارئیے
تو ذرا احتیاط سے
ایسا نہ ہو کہ کانچ کی دیوار گر پڑے
میں خواب کے سفر میں ہوں
آہستہ بولیے
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment