Hijar Mein Bhi Yeh Meri Sans Agar Baqi Hai Iska Matlab Hai , Muhabbat Mein Asar Baqi Hai
ہجر میں بھی یہ مری سانس اگر باقی ہے
اس کا مطلب ہے، محبت میں اثر باقی ہے
Hijar Mein Bhi Yeh Meri Sans Agar Baqi Hai
Iska Matlab Hai , Muhabbat Mein Asar Baqi Hai
چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے
تم ستمگر ہو نہ گھبراؤ مری حالت پر
زخم سہنے کا ابھی مجھ میں ہنر باقی ہے
ہجر کی آگ میں جلنے سے نہیں ڈرتی میں
عشق مجھ میں ابھی بے خوف و خطر باقی ہے
میرے تنکے بھی ہوئے راکھ تو کیا حرج بھلا
آتش عشق بتا کتنا یہ گھر باقی ہے
سانس لینا ہی تو شاہینؔ نہیں ہے جیون
ڈھونڈ کر لاؤ مری روح اگر باقی ہے

Comments
Post a Comment