Hum Ne Jab Koi Bhi Darwaza Khula Paya Hai Kitni Guzri Hoi Baton Ka Khayal Aaya Hai
ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہے
کتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہے
Hum Ne Jab Koi Bhi Darwaza Khula Paya Hai
Kitni Guzri Hoi Baton Ka Khayal Aaya Hai
قافلہ درد کا ٹھہرے گا کہاں ہمسفرو
کوئی منزل ہے ، نہ بستی، نہ کہیں سایہ ہے
ایک سہما ہوا سنسان گلی کا نکڑ
شہر کی بھیڑ میں اکثر مجھے یاد آیا ہے
یوں لیے پھرتا ہوں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صلیب
اب یہی جیسے مری زیست کا سرمایہ ہے
شہر میں ایک بھی آوارہ نہیں اب کے برس
موسم لالہ و گل کیسی خبر لایا ہے
ان کی ٹوٹی ہوئی دیوار کا سایہ آزرؔ
دھوپ میں کیوں مرے ہمراہ چلا آیا ہے
کفیل آزرؔ امروہی
Kafeel Aazar Amrohi

Comments
Post a Comment