Khayal Ka Silsila Rahega Bichad Ke Bhi Rabta Rahega
خــــــــیال کا سلسلہ رہے گا
بچھڑ کے بھی رابطہ رہے گا
Khayal Ka Silsila Rahega
Bichad Ke Bhi Rabta Rahega
تمہاری چاہت تو دل کی ضد ہے
یہ اپنی ضد پہ اڑا رہے گا
وفا ہی جب جرم ہو جہاں میں
تو بے وفا ، بے وفا رہے گا
ہے عشق سے احتیاط لازم ہے
جھکے رہو گے، جھکا رہے گا
وفا ہے ریشم مزاج رشته
بندھے رہو گے، بندھا رہے گا
میں دور تک اس کو دیکھتا ہوں
وہ دور سے دیکھتا رہے گا
ہزار لمبی جدائیاں ہوں
رضا ترا ہے، ترا رہے گا
عباس رضا بلوچ
Abbas Raza Baloch

Comments
Post a Comment