Kisi Ki Aankh Mein Khud Ko Talash Karna Hai Phir Uske Bad Humain Aainon Se Darna Hai
کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے
پھر اس کے بعد ہمیں آئینوں سے ڈرنا ہے
Kisi Ki Aankh Mein Khud Ko Talash Karna Hai
Phir Uske Bad Humain Aainon Se Darna Hai
جو زندگی تھی مری جان تیرے ساتھ گئی
بس اب تو عمر کے نقشے میں وقت بھرنا ہے
جو تم چلو تو ابھی دو قدم میں کٹ جائے
جو فاصلہ مجھے صدیوں میں پار کرنا ہے
سحر ہوئی تو ستاروں نے موند لیں آنکھیں
وہ کیا کریں کہ جنہیں انتظار کرنا ہے
یہ خواب ہے کہ حقیقت، خبر نہیں امجدؔ
مگر ہے جینا یہیں پر یہیں پہ مرنا ہے
امجد اسلام امجدؔ
Amjid Islam Amjid

Comments
Post a Comment