Zara See Der Muhabbat Se Ikhtelaf Kia Azeeyaton Ne Kai Din Mera Tawaf Kia
ذرا سی دیر محبت سے اختلاف کیا
اذیتوں نے کئی دن مرا طواف کیا
Zara See Der Muhabbat Se Ikhtelaf Kia
Azeeyaton Ne Kai Din Mera Tawaf Kia
بچھڑتے وقت اسے کیا وضاحتیں دیتی
سو دل سے گرد ہٹائی، نہ شیشہ صاف کیا
جسے بھی میں نے سکھایا نباہنے کا ہنر
اسی نے میری رفاقت سے انحراف کیا
مجھے چراغ بنا کر مرے مقدر نے
تمام عمر ہَوا کو مرے خلاف کیا
ہمارے ہوتے ہوئے بے ہنر کہا ہم کو
مَرے تو خوب زمانے نے اعتراف کیا
مرا حساب چکائیں نہ بیٹیاں تیری
قسم خدا کی تجھے اس لیے معاف کیا
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment