Achi Soorat Peh Ghazab Toot Ke Aana Dil Ka Yaad Aata Hai Humein Haaye Zamana Dil Ka
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا
Achi Soorat Peh Ghazab Toot Ke Aana Dil Ka
Yaad Aata Hai Humein Haaye Zamana Dil Ka
نگۂ یار نے کی خانہ خرابی ایسی
نہ ٹھکانہ ہے جگر کا، نہ ٹھکانہ دل کا
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک
کیونکر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا
غنچۂ گل کو وہ مٹھی میں لیے آتے تھے
میں نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانہ دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے
ان کا جانا تھا الٰہی کہ یہ جانا دل کا
نگہ شرم کو بیتاب کیا کام کیا
رنگ لایا تری آنکھوں میں سمانا دل کا
انگلیاں تار گریباں میں الجھ جاتی ہیں
سخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا
حور کی شکل ہو تم، نور کے پتلے ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیونکر جاؤں
اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا
بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیں
کر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانہ دل کا
بعد مدت کے یہ اے داغؔ سمجھ میں آیا
وہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا
مرزا داغؔ دہلوی
Mirza Dagh Dehlvi

Comments
Post a Comment