Bheeni Bheeni Gulab Ki Khushbo Yar Jaisi Gulab Ki Khushbo
بھینی بھینی گلاب کی خوشبو
یار جیسی گلاب کی خوشبو
Bheeni Bheeni Gulab Ki Khushbo
Yar Jaisi Gulab Ki Khushbo
کر گیا چھیڑ چھاڑ اک بھونرا
سو رہی تھی گلاب کی خوشبو
ایک جھونکے نے بڑھ کےچوم لیا
اَن چھُوئی تھی گلاب کی خوشبو
غنچے کے بازوؤں میں جکڑی ہوئی
چھٹپٹاتی گلاب کی خوشبو
آتی رہتی ہیں تتلیاں ملنے
ہے اکیلی گلاب کی خوشبو
تیرے آنے سے جب فضا مہکی
چونک اٹھٌی گلاب کی خوشبو
لکھی تھیِں ہجرتیں مقدر میں
کہاں رکتی گلاب کی خوشبو
دیدۂ دل سے دیکھ لیتا ہوں
چلتی پھرتی گلاب کی خوشبو
ضمیر درویش
Zamir Darvaish

Comments
Post a Comment