Main Ne Tera Bhi Dukhaya Hai Zabt Apna Bhi Aazmaya Hai
میں نے تیرا بھی دل دکھایا ہے
ضبط اپنا بھی آزمایا ہے
Main Ne Tera Bhi Dukhaya Hai
Zabt Apna Bhi Aazmaya Hai
کتنا مصروف ہو گئی ہوں میں
آج فرصت میں یاد آیا ہے
اس نے بھی کچھ نہیں شکایت کی
میں نے بھی کب اسے منایا ہے
جاگ اٹھی تھیں خواہشیں دل میں
لوریوں سے انہیں سلایا ہے
کوئی مہلت نہیں نصیب ہوئی
وقت کب میرے ہاتھ آیا ہے
کیا کہوں اور بابت دنیا
پیڑ جیسا ہے ویسی چھایا ہے
عائشہ شرمین
Ayesha Sharmeen

Comments
Post a Comment