Ret Par Naqsh Jamate Hoe Mar Jate Hein Zindagi Tujh Se Nebhate Hoe Mar Jate Hein
ریت پر نقش جماتے ہوئے مر جاتے ہیں
زندگی تجھ سے نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
Ret Par Naqsh Jamate Hoe Mar Jate Hein
Zindagi Tujh Se Nebhate Hoe Mar Jate Hein
زندہ رہنا ہے کسے، کس کو گزر جانا ہے
لوگ تقدیر ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
دیدۂ شوق تری دیدہ وری کے صدقے
لوگ ہنستے ہیں، ہنساتے ہوئے مر جاتے ہیں
کس قدر خواب سے بوجھل ہیں نگاہیں اس کی
بزم میں آنکھ اٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
جانیئے کون، کہاں، کس سے تقاضہ کر لے
جان پر قرض اٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
پھر اسی صبح کی رنگین حسیں ساعت میں
ہجر کی رات بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہیں مرے دوست مگر شکوہ کوئی کیا کیجیے
زخم جو دل پہ لگاتے ہوئے مر جاتے ہیں
جن کا دعوٰی ہے مسیحائی شناسائی کا
رونے والوں کو رلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہائے اس زیست کا ہنگام کہ فرصت نہ ملی
بوجھ اک دل پہ اٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
شائستہ مفتی
Shaista Mufty

Comments
Post a Comment