Soz e Gham Dy Ke Mujhe Usne Yeh Irshad Kia Ja Tujhe Kashmakash e Dahar Se Azad Kia
سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
Soz e Gham Dy Ke Mujhe Usne Yeh Irshad Kia
Ja Tujhe Kashmakash e Dahar Se Azad Kia
وہ تجھے یاد کرے جس نے بھلایا ہو کبھی
میں نے تجھ کو نہ بھلایا نہ کبھی یاد کیا
پر میرے کاٹ کے صیاد نے اعلان کیا
اب قفس کھول دیا جا تجھے آزاد کیا
سو کے اٹھے ہو مگر چہرے پہ بکھری زلفیں
کس پریشان طبیعت نے تجھے یاد کیا
اس کا رونا نہیں، کیوں تم نےکیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر سے برباد کیا
اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلم پہ نثار
پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا
دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے سونے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
مجھ کو تو ہوش نہیں، تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
جوش ملیح آبادی
Josh Maleeh Abadi

Comments
Post a Comment