Azal Se Apne Hi Hone Ke Intezar Mein Hon Namo Pazeer Hon Lekin Tere Hisar Mein Hon
ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں
نمو پزیر ہوں لیکن ترے حصار میں ہوں
Azal Se Apne Hi Hone Ke Intezar Mein Hon
Namo Pazeer Hon Lekin Tere Hisar Mein Hon
ترے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں
میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں
فرار چاہوں تو جو کچھ ہے سب گنوا بیٹھوں
کچھ اس طرح تری آواز کے حصار میں ہوں
بتا گیا تھا پتہ بس یونہی ہواؤں کو
کہاں خبر تھی کہ میں بھی ترے شمار میں ہوں
الگ نہ دیکھ بہت زرد زرد پھولوں سے
نظر اٹھا کہ میں چاروں طرف بہار میں ہوں
میں حرف حرف تجھے جسم و جاں میں لے جاؤں
کہ رنگ رنگ تری لوٹتی بہار میں ہوں
نسیم اجمل
Naseem Ajmal

Comments
Post a Comment