Faqat Dum Sadh Kar Takty Raheingy Tere Khamosh Tujh Se Kia Kaheingy
فقط دم سادھ کر تکتے رہیں گے
ترے خاموش تجھ سے کیا کہیں گے
Faqat Dum Sadh Kar Takty Raheingy
Tere Khamosh Tujh Se Kia Kaheingy
جو خط لکھے مگر بھیجے نہیں تھے
نجانے کس کو ورثے میں ملیں گے
وہ غم جو شعر میں ڈھلنے نہ پایا
ہم اپنی مسکراہٹ سے لکھیں گے
اِس آنگن میں اماوس پھیلتی ہے
مگر وہ بام و در روشن رہیں گے
وہ آنکھیں اور منظر ڈھونڈ لیں گی
ہمارے رنگ جب پھیکے پڑیں گے
سیماب ظفر
Seemab Zafar

Comments
Post a Comment