Har Kahein Mere Muqabil Aankhein Kar Rahi Hein Mujhe Ghael Aankhein
ہر کہیں میرے مقابِل آنکھیں
کر رہی ہیں مجھے گھائِل آنکھیں
Har Kahein Mere Muqabil Aankhein
Kar Rahi Hein Mujhe Ghael Aankhein
ڈُوب جانے کو سمندر سمجھوں
اور جِینے کو وہ ساحِل آنکھیں
مُجھ کو اُن سے ہی گِلہ، اُن سے غَرَض
میری منصف میری قاتِل آنکھیں
اُس کی آنکھیں ہیں، مِری آنکھیں ہیں
درمیاں غَیر کی حائِل آنکھیں
مُدّتوں یاد رہیں گی اُس کو
یہ سوال اور یہ سائِل آنکھیں
زِندگی نام ہے بَس یادوں کا
کر رہی ہیں مجھے قائِل آنکھیں
میرے ہونے کا پَتَہ دیتی ہیں
میری جانب تیری مائِل آنکھیں
سُونی سُونی ہے بہار اَب کے بَرَس
ڈھونڈتی ہیں تیری پائِل آنکھیں
سلیم کاوِش
Saleem Kawish

Comments
Post a Comment