Itna Toh Dosty Ka Sila Dijiye Mujhe Apna Samajh Ke Zehar Pila Dijiye Mujhe
اتنا تو دوستی کا صلہ دیجیے مجھے
اپنا سمجھ کے زہر پلا دیجیے مجھے
Itna Toh Dosty Ka Sila Dijiye Mujhe
Apna Samajh Ke Zehar Pila Dijiye Mujhe
اٹھے نہ تاکہ آپ کی جانب نظر کوئی
جتنی بھی تہمتیں ہیں، لگا دیجیے مجھے
کیوں آپ کی خوشی کو مرا غم کرے اداس
اک تلخ حادثہ ہوں بھلا دیجیے مجھے
صدق و صفا نے مجھ کو کیا ہے بہت خراب
مکر و ریا ضرور سکھا دیجیے مجھے
میں آپ کے قریب ہی ہوتا ہوں ہر گھڑی
موقع کبھی پڑے تو صدا دیجیے مجھے
ہر چیز دستیاب ہے بازار میں عدمؔ
جھوٹی خوشی خرید کے لا دیجیے مجھے
سید عبدالحمید عدمؔ
Sayed Abdul Hameed Adam

Comments
Post a Comment