Jab Piyar Nahi Hai Toh Bhala Kion Nahi Daity Khat Kis Liye Rakhy Hein Jala Kion Nahi Daity
جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
خط کس لیے رکھے ہیں، جلا کیوں نہیں دیتے
Jab Piyar Nahi Hai Toh Bhala Kion Nahi Daity
Khat Kis Liye Rakhy Hein Jala Kion Nahi Daity
کس واسطے لکھا ہے ہتھیلی پہ مرا نام
میں حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے
للہ شب و روز کی الجھن سے نکالو
تم میرے نہیں ہو تو بتا کیوں نہیں دیتے
رہ رہ کے نہ تڑپاؤ اے بیدرد مسیحا
ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے
جب اس کی وفاؤں پہ یقیں تم کو نہیں ہے
حسرتؔ کو نگاہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے
حسرتؔ جے پوری
Hasrat Jay Puri

Comments
Post a Comment