Kabhi Saya Hai , Kabhi Dhoop Muqadar Mera Hota Rehta Hai Yun Hi Qarz Barabar Mera
کبھی سایہ ہے، کبھی دھوپ مقدر میرا
ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا
Kabhi Saya Hai , Kabhi Dhoop Muqadar Mera
Hota Rehta Hai Yun Hi Qarz Barabar Mera
ٹوٹ جاتے ہیں کبھی میرے کنارے مجھ میں
ڈوب جاتا ہے کبھی مجھ میں سمندر میرا
کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار مرے
کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا
باوفا تھا تو مجھے پوچھنے والے بھی نہ تھے
بیوفا ہوں تو ہوا نام بھی گھر گھر میرا
کتنے ہنستے ہوئے موسم ابھی آتے لیکن
ایک ہی دھوپ نے کمھلا دیا منظر میرا
اطہر نفیس
Athar Nafees

Comments
Post a Comment