Kar Diya Jata Tha Pehle Jahan Khamosh Mujhe Log Ab Sunty Hein Ho Kar Hamatan Gosh Mujhe
کر دیا جاتا تھا پہلے جہاں خاموش مجھے
لوگ اب سنتے ہیں ہو کر ہمہ تن گوش مجھے
Kar Diya Jata Tha Pehle Jahan Khamosh Mujhe
Log Ab Sunty Hein Ho Kar Hamatan Gosh Mujhe
دکھ ہی ایسے تھے کہ آنے نہ دیے ہوش مجھے
دیکھنے والے سمجھتے رہے مے نوش مجھے
جانے کیوں رات مجھے دن سے حسیں لگتی ہے
اچھی لگتی ہیں حسینائیں سیہ پوش مجھے
میں اُبل کر نہ بجھا لوں کہیں خود اپنی آ گ
اپنے ہاتھوں ہی نہ مروا دے مرا جوش مجھے
جیت کر اس کو دکھانا پڑا کچھوے کی طرح
سست رفتار سمجھتا تھا جو خرگوش مجھے
یاد آئی تو رگ و پے میں کِھلے سرخ گلاب
رات جب اس کی مہکتی ہوئی آغوش مجھے
راحت سرحدی
Rahat Sarhady

Comments
Post a Comment