Khayal Yaar Se Guft o Shaneed Rehti Hai Yun Aaye Roz Hi Apni Toh Eid Rehti Hai
خیالِ یار سے گفت و شنید رہتی ہے
یوں آئے روز ہی اپنی تو عید رہتی ہے
Khayal Yaar Se Guft o Shaneed Rehti Hai
Yun Aaye Roz Hi Apni Toh Eid Rehti Hai
ہے ایک جیسا ہی پروانے حال تیرا مرا
طلب یہ آگ سی ہر دم شدید رہتی ہے
گنوا کے بیٹھے ہیں سامان قیمتی سارا
مگر ہے دل کو تسلی رسید رہتی ہے
یہ عشق بارے کوئی مستند نہیں رائے
مشاہدہ ہے کہ مٹی پلید رہتی ہے
یہ چاند چاند کی جب جب فضا میں گونج اٹھے
شکر ہوں کرتا کسی کی تو عید رہتی ہے
کوئی نہیں ہے، کوئی بھی نہیں، کوئی بھی نہیں
نہیں نہیں میں بھی لیکن امید رہتی ہے
اتباف ابرک
Atbaf Abrak

Comments
Post a Comment