Kisi Ki Aankh Mein Mera Khumar Tha Hi Nahi Mujhe Toh Koi Shajar Sayadar Tha Hi Nahi



کسی کی آنکھ میں میرا خمار تھا ہی نہیں
مجھے تو کوئی شجر سایہ دار تھا ہی نہیں
Kisi Ki Aankh Mein Mera Khumar Tha Hi Nahi
Mujhe Toh Koi Shajar Sayadar Tha Hi Nahi

مجھے تو اشک ملے ہیں وفا کے بدلے میں
میرے لیے تو کوئی اشکبار تھا ہی نہیں

سوار میں نے کیا سب کو اپنے سر ہے مگر
کسی کے سر پہ کبھی میں سوار تھا ہی نہیں

دل کی دنیا میں بڑے لوگ میسر تھے مجھے
مگر کسی پہ مجھے اختیار تھا ہی نہیں

یہاں کے لوگ میرا اعتبار کیا کرتے
مجھے تو خود پہ کبھی اعتبار تھا ہی نہیں

جس کو فہرست میں، میں سب سے پہلے رکھتا تھا
اس کی فہرست میں میرا شمار تھا ہی نہیں

میرے ہم نفس بھی بنتے تھے میری حالت پر
میری حالت پے کوئی سو گوار تھا ہی نہیں

کیسے مانوں کہ وہ مجھ کو یاد کرتا ہے
بچھڑتے وقت کوئی اس کو عار تھا ہی نہیں

تو مجھے خار سمجھتا تھا اپنے رستے کا
میں بیقرار تھا، رستے کا خار تھا ہی نہیں

مجھے دعا میں بھلا کون یاد رکھے گا
بس اک گمان تھا میں، یاد گار تھا ہی نہیں



Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein