Piyar Par Bas Toh Nahi Hai Mera Lekin Phir Bhi Tu Bata Dy Keh Tujhe Piyar Karon Ya Na Karon
پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی
تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں
تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں
ان تمناؤں کا اظہار کروں یا نہ کروں
Piyar Par Bas Toh Nahi Hai Mera Lekin Phir Bhi
Tu Bata Dy Keh Tujhe Piyar Karon Ya Na Karon
تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن
میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں
تو کہیں بھی ہو، ترے پھول سے عارض کی قسم
تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں
تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک
تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں
ڈھونڈتی رہتی ہیں تخیل کی بانہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں
میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے
مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو
میرا حاصل، میری تقدیر بتا دے مجھ کو
ساحر لدھیانوی
Sahir Ludhianvi

Comments
Post a Comment