Sharam o Haya Ke Baab Se Aagay Nahi Barha Woh Aankh Ke Khitab Se Aagay Nahi Barha
شرم و حیا کے باب سے آگے نہیں بڑھا
وہ آنکھ کے خطاب سے آگے نہیں بڑھا
Sharam o Haya Ke Baab Se Aagay Nahi Barha
Woh Aankh Ke Khitab Se Aagay Nahi Barha
ہم محوِ انتظار بھی تھے ، محوِ دید بھی
میں شرم ، وہ حجاب سے آگے نہیں بڑھا
پیشِ نظر تھی رات ستاروں کی آبرو
قصداً میں ماہتاب سے آگے نہیں بڑھا
گر چاہتا تو ہفت فلک ہوتے زیرِ پا
لیکن میں آفتاب سے آگے نہیں بڑھا
ٹھہرے گی حسنِ یار پہ کیا ہوش میں نگاہ
جب خواب میں نقاب سے آگے نہیں بڑھا
اُس ربطِ باہمی میں تقدس تھا اس قدر
وہ نیند سے ، میں خواب سے آگے نہیں بڑھا
یہ سوچ کر کہ طرزِ سخن ہوش لے نہ لے
نغمہ مرے رباب سے آگے نہیں بڑھا
اس کی کتاب میں کبھی رکھے تھے چند پھول
میں پھول ، وہ کتاب سے آگے نہیں بڑھا
دریائے حسن و عشق کہیں ہو تو ہو مگر
اکمل کبھی سراب سے آگے نہیں بڑھا
اکمل الہ آبادی
Akmal Ilahabadi

Comments
Post a Comment