Subah Se Katna Pade Ga Sham Tak Jane Main Reh Jaoun Kitna Sham Tak
صُبح سے کٹنا پڑے گا شام تک
جانے مَیں رہ جاؤں کتنا شام تک
Subah Se Katna Pade Ga Sham Tak
Jane Main Reh Jaoun Kitna Sham Tak
ناؤ دھنس جاتی ہے دِل کی ریت میں
سُوکھ جاتا ہے یہ دریا شام تک
مَیں نے سب کِرنیں دِیئوں میں بانٹ دِیں
ورنہ کاسہ بھر چُکا تھا شام تک
پھر کوئی شب مجھ کو لینے آ گئی
اور اپنے پاس رکھّا شام تک
شام سے پہلے چلا جائے گا وہ
ختم ہو جائے گی دُنیا شام تک
سعید شارقؔ
Saeed Shariq

Comments
Post a Comment