Tu Buhat Roky Gi Lekin Main Juda Ho Jaounga Zindagi Ik Roz Main Tujh Se Khafa Ho Jaounga
تو بہت روکے گی لیکن میں جدا ہو جاؤں گا
زندگی اک روز میں تجھ سے خفا ہوجاؤں گا
Tu Buhat Roky Gi Lekin Main Juda Ho Jaounga
Zindagi Ik Roz Main Tujh Se Khafa Ho Jaounga
تو مصلے پر میری نیت تو باندھے گی مگر
میں نماز عشق ہوں، تجھ سے قضا ہوجاؤں گا
چاہتوں کے دائرے میں آؤ دوڑیں ایک ساتھ
تونے مجھ کو چھو لیا تو میں تیرا ہو جاؤں گا
آخری سیڑھی پہ جا کر تو پکارے گی مجھے
اور میں نیچے کھڑا تیری صدا ہو جاؤں گا
سانپ اور سیڑھی کے الجھے کھیل میں اک روز میں
درمیانی مرحلے میں لا پتہ ہو جاؤں گا
بیوفائی کا دیا اس نے حسن طعنہ مجھے
اور اب میں احتجاجاً بیوفا ہو جاؤں گا
حسن عباس رضا
Hasan Abas Raza

Comments
Post a Comment