Tumhara Gham Nahi Kafi Humara Dil Jalane Ko Naye Kuch Rog Paleingy Purane Dukh Bhulane Ko
تمہارا غم نہیں کافی ہمارا دل جلانے کو
نئے کچھ روگ پالیں گے پرانے دُکھ بھلانے کو
Tumhara Gham Nahi Kafi Humara Dil Jalane Ko
Naye Kuch Rog Paleingy Purane Dukh Bhulane Ko
یہ دن اپنا گذرتا ہے اُٹھائے بوجھ فرقت کا
چلی آئی ہیں پھر یادیں ہمیں شب بھر جگانے کو
تمہارے نقش گر ہاتھوں میں سارے رنگ کچے ہیں
کہو تو ہم چلے آئیں لہو اپنا ملانے کو
ہوئے ہیں داخلِ زنداں مگر تم سے نہیں غافل
صبا کو ہم نے بھیجا ہے تمہارا حال لانے کو
تماشہ ہو اگر تقدیر کا تب دِل بہلتا ہے
اُتر آتے ہیں تارے بھی مری راہیں سجانے کو

Comments
Post a Comment