Yeh Cheekh Zabt Ke Kamre Mein Qaid Rehti Hai Koi Dareecha Banaya Nahi Sada Ke Liye
یہ چیخ ضبط کے کمرے میں قید رہتی ہے
کوئی دریچہ بنایا نہیں صدا کے لیے
Yeh Cheekh Zabt Ke Kamre Mein Qaid Rehti Hai
Koi Dareecha Banaya Nahi Sada Ke Liye
یہ لوگ موت سے پہلے ہی مر چکے ہوتے
جو زندہ ہیں تو فقط ایک اپسرا کے لیے
یہ روزِ حشر کا وعدہ تو بعد میں ہو گا
ابھی تو ساتھ نبھاؤ ذرا خدا کے لیے
میں اس کےجسم کو اوڑھوں تمام موسموں میں
یہی لباس ہے کافی مری حیا کے لیے
تمہارے زخم کو ہونٹوں سےسی نہ لوں میں کیا؟
دوا یہ کم ہے کسی زخم کی شفا کے لیے؟
وہ میرے ہاتھ پکڑ لے تو سوچتی ہوں مہک
کہ سب جہاں ہیں فقط لمسِ آشنا کے لیے
نادیہ مہک
Nadia Mehik

Comments
Post a Comment