Yeh Mujeza Bhi Kisi Roz Kar Hi Jana Hai Tere Khayal Se Ik Din Guzar Hi Jana Hai
یہ معجزہ بھی کسی روز کر ہی جانا ہے
ترے خیال سے اک دن گزر ہی جانا ہے
Yeh Mujeza Bhi Kisi Roz Kar Hi Jana Hai
Tere Khayal Se Ik Din Guzar Hi Jana Hai
نجانے کس لیے لمحوں کا بوجھ ڈھوتے ہیں
یہ جانتے ہیں کہ اک دن تو مر ہی جانا ہے
وہ کہہ رہا تھا نبھائے گا پیار کی رسمیں
میں جانتا تھا کہ اس نے مکر ہی جانا ہے
ہوائے شام کہاں لے چلی زمانے کو
ذرا ٹھہر کہ ہمیں بھی ادھر ہی جانا ہے
میں خواب دیکھتا ہوں اور شعر کہتا ہوں
ہنروروں نے اسے بھی ہنر ہی جانا ہے
آصف شفعی
Asif Shafee

Comments
Post a Comment