Latest Post
Loading...

Us Ne Bare Khuloos Se Dhoka Diya Mujhe,Darya Dekh K Piyaas Ka Sehra Diya Mujhe


نام : عمیر اشفاق قریشی
ولدیت : اشفاق احمد قریشی
جائے پیدائش: سعودی عرب ریاض 
تعلیم: ماسٹر ان آٹو موٹیو انجئیرننگ 
مشاغل: تعلیمی اور سماجی خدمات، شاعری ، مطالعہ
پیدائش کے بعد کا 12 سال تک سعودی عرب میں ہی قیام پذیر رہے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت سعودی عرب میں ہی قائد اعظم انٹرنشنل سکول سے حاصل کی ۔ابتدا ہی سے رجحان شعر گوئی کی طرف تھا ۔لیکن اپنے چچا جو کہ شاعر تھے ان کو دیکھ کے طبیعت اور بھی شعر و شاعری کی طرف مائل ہونے لگی۔ پر وہ 22 سال کی عمر میں ہی داغِ رفاقت دے گئے۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔
 سعودیہ سے واپسی کے بعد قائد اکیڈمی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایف ایس سی کے لیے ،ایچ نائن، کالج اسلام آباد میں ایڈ میشن لیا
جہاں ہمارے اردو کے لیکچرار اردو کے مایہ ناز شاعر 
اعتبار ساجد صاحب تھے جن کی شاگردی کا شرف تو حاصل ہوا 
اور چاہتے ہوئے بھی میں ان سے فیض یاب نہ ہو سکے۔  شدید بیمارکے باعث دو سال تک ہاسپٹل میں زیرِ علاج رہے۔جس کے باعث شعر گوئی کا سلسلہ برقرار نہ رکھ سکے
خداوند کریم نے رحم کیا اور پھر سے شفایاب ہو گئے۔اور دوبارہ سے تعلیم کا آغاز کیا۔
شعر گوئی کا باقاعدہ آغاز 2 سال قبل کیا
 پسندیدہ شعرا میں  علامہ محمد اقبال، مرزا اسد اللہ خان غالب ،  میر تقی میر،  فیض احمد فیض، احمد فراز  اور محسن نقوی شامل ہیں  اور ان سب کو اپنا روحانی استاد مانتے ہیں
ان کی محبوب ترین صنف سخن غزل ہے اسکے علاوہ انہوں نے قطعات،قصیدے،سلام اورنظموں وغیرہ پر بھی طبع آزمائی کی ہے


اس نے بڑے خلوص سے دھوکہ دیا مجھے
دریا دِکھا کے پیاس کا صحرا دیا مجھے

بارش ہوئی تو ضبط کی دیوار گر پڑی
اشکوں کا تیری یاد نے تخفہ دیا مجھے

دیکھا تھا ایک چاند کو میں نے زمین پر
حیرت نے آسمان سے لٹکا دیا مجھے

کیوں مجھکو جینے کے لیے سانسیں ملیں ہیں کم
کیوں وقت میری عمر نے آدھا دیا مجھے

سیراب اس کو میں نے کیا آنسوؤں کے ساتھ
وہ پیڑ جس نے دھوپ میں سایہ دیا مجھے

وہ شخص مر گیا اسی حیرت میں ڈوب کر
ساحل پہ لا کے موجوں نے پٹکا دیا مجھے

یہ کس نے حسرتوں کے کفن میں لپیٹ کر
لا کر دیارِ غیر میں دفنا دیا مجھے

*************

غم مقدر سے ملا تیری خطا کچھ بھی نہیں 
مجھ کو تجھ سے تو مِرے یار گلہ کچھ بھی نہیں

راہِ الفت میں اذیّت کے سوا کچھ بھی نہیں 
زندگی بِیت گئی پر میں جِیا کچھ بھی نہیں

بِیج بوئے تھے محبت کے زمینِ دل میں 
خارِ وحشت کے سوا یار اُگا کچھ بھی نہیں

سوزشِ زخمِ جگر تجھ سے بیاں کیسے کروں
لب ہلانے کو ہلاتا ہوں، صدا کچھ بھی نہیں

درد تیرا بھی عنایت ہے تِری میرے لیے
کیسے کہہ دوں کہ مجھے تُو نے دیا کچھ بھی نہیں

یہ محبت، کہ عبادت سے سوا جانا جسے 
ایک بے مول سے جذبے کے سوا کچھ بھی نہیں

تیری ہر بات کو سر آنکھوں پہ رکھتا ہے عمیر
تیرے نزدیک مگر اس کی وفا کچھ بھی نہیں

*************

کس زمیں پر مجھے اتارا گیا؟
ہر گھڑی مرگ سے گزارا گیا؟

جھیل آنکھوں میں تھی کشش ایسی 
میرے ہاتھوں سے ہر کنارہ گیا

میں نے کھویا نہیں فقط اسکو
اپنے ہاتھوں سے میں بھی سارا گیا

تجھ سے مل کے تو لوٹ آیا تھا
خود کو لینے مگر دوبارہ گیا

مجھ سے ملوا کے اک پری پیکر
میری تقدیر کو سنوارا گیا

وقتِ رخصت یہ ہونٹ ساکن تھے
بات کرنے کو پھر اشارہ گیا

*************

پردیس میں گاؤں کی ہوا مانگ رہا ہے
مغرب میں وہ مشرق کی فضا مانگ رہا ہے

اک عمر رہا تھا جو اجالوں کا پیمبر
صد حیف وہ جگنو سے ضیا مانگ رہا ہے

مت دیکھ اسے ایسے حقارت کی نظر سے 
سائل ہے تجھے دے کے دعا، مانگ رہا ہے

اب آبلہ پائی مجھے لگتی ہے مقدر
دل وحشتِ صحرا کی ادا مانگ رہا ہے

ہوجائے نہ کہرام بپا ان کی نوا سے 
ہر زخم مرا اذنِ صدا مانگ رہا ہے 

سیراب کیا جس نے چمن اپنے لہو سے
پت جھڑ میں وہ پھولوں کی بقا مانگ رہا ہے

*************

جنگل کی خلافت جو مجھے سونپ گیا ہے
وہ شخص محبت میں قلندر بھی رہا ہے

بگڑے ہوئے خالات ہیں گردش میں ستارے
ابتک جو بچاتی رہی وہ ماں کی دعا ہے

لے جا کے میں دیکھوں گا وہاں اپنا سفینہ
سورج یہ سمندر میں کہاں ڈوب رہا ہے

خوشبو سے معطر ہے مرا پورا سراپا 
اک شخص کی قربت نے مجھے پھول کیا ہے

وہ حلقہءِ احباب میں شامل بھی نہیں تھا
جس شخص نے مشکل میں مرا ساتھ دیا ہے

مرتے ہوئے سائے نے مجھے اتنا بتایا
گرتی ہوئی دیوار نے یہ کام کیا ہے

*************

عمیر قریشی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer