Latest Post
Loading...

Jo Dard Tu Ne Diya Har Khushi Se Barrh Kar,Teri A'ata To Meri Teshnagi Se Barrh Kar Hai (سید علی سلمان)



نام: سید علی سلمان
تاریخِ پیدایش:5 جولائی 1991
جائے پیدائش:صوابی، گاؤں کالو خان
شہر کانام:صوابی
شعری سفر:2005 سے

جو درد تو نے دیا ہر خوشی سے بڑھ کر ہے
تری عطا تو مری تشنگی سے بڑھ کر ہے

ترے فراق کا دکھ کیا ہے اس کی شدت کیا
بس ایک کرب ہے جو خود کشی سے بڑھ کر ہے

وہ بات کیسے چھپائیں جو چھپ نہیں سکتی
بتائیں کیسے جو شرمندگی سے بڑھ کر ہے

تُو مہر و ماہ کا قائل ہے میں ترا قائل
کہ تیرا نور ہر اک روشنی سے بڑھ کر ہے

کمی تو کچھ بھی نہیں پھر بھی سوچتا ہوں میں
تری کمی مجھے ہر اک کمی سے بڑھ کر ہے

میں اس کے سامنے ہتھیار ڈال سکتا ہوں
یہ دشمنی ہے تو پھر دوستی سے بڑھ کر ہے

فنا کے بعد بھی ان سے ملیں گے ہم سلمان
کہ ان سے پیار ہمیں زندگی سے بڑھ کر ہے

*************

میں سفر میں تھا، میں سفر میں ہوں مجھے قربتوں کی خبر کہاں
جسے راستوں کا پتہ نہیں اسے منزلوں کی خبر کہاں

مرے بے خبر! تجھے کیا خبر، کہاں رہ گیا ترا ہمسفر
تجھے اپنی ذات عزیز ہے تجھے دوستوں کی خبر کہاں

تُو عروج ہے میں زوال ہوں، تُو یقین ہے میں گمان ہوں
یہ ہمارا رشتہ اٹوٹ ہے، ہمیں فاصلوں کی خبر کہاں

ہونہی کٹ گئے مرے روز و شب، تجھے کیسے کوئی بتائے اب
ترے ہجر میں جو ملے مجھے، تجھے ان دکھوں کی خبر کہاں

مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں، مجھے حوصلہ ہی ملا نہیں
مرے مہربان تجھے بھلا مری خواہشوں کی خبر کہاں

*************

جس بات کا خدشہ تھا وہی بات ہوئی ہے
تنہائی میں پھر خود سے ملاقات ہوئی ہے

میں عشق کے زنداں میں اکیلا تو نہیں ہوں
پابندِ سلاسل وہ مرے سات ہوئی ہے

برہم ہے وہ کیوں جانیے منزل پہ پہنچ کر
لگتا ہے کہ رستے میں کوئی بات ہوئی ہے

میں کم سن و کج فہم ہوں، نا اہل ہوں لیکن
تُو یہ تو بتا تجھ کو کبھی مات ہوئی ہے

اُس نے کہا سلمان تمہیں میری قسم ہے
گھر لوٹ چلو تم کہ بہت رات ہوئی ہے

*************

ذہن میں اس کے بھلا بات یہ آئی کیسی
خواب دفناتے ہوئے رسمِ حنائی کیسی

اس طرح مجھ سے لپٹ کر مجھے رخصت نہ کرو
تم مرے دل میں ہو پھر تم سے جدائی کیسی

لامکاں، کون و مکاں، دونوں جہاں کچھ بھی نہیں
دلِ انسان میں پھر تیری سمائی کیسی

تیرا برتاؤ جو دیکھا تو یہ احساس ہوا
ایک انسان کی ہوتی ہے خدائی کیسی

آہ بھرنے سے فزوں ہوتی ہے، رونے سے زیاد
تم نے یہ آگ محبت کی لگائی کیسی

*************

ٹوٹ کے چاہوں کس کو

تُو نے چاہا تھا کہ میں ٹوٹ کے چاہوں تجھ کو
وقت آنے پہ مری جان یہ دیکھا تُو نے
اپنے اس پیکرِ کمزور پہ لادے میں نے
تیری دن بھر کی تھکن، درد کے کتنے انبار
تیری راتوں کی چبھن، جسم کی مایوس پکار
اور پھر مرحلہء شوق میں رکھے جو قدم
میں بھٹکتا ہی رہا شہر کی گلیوں میں مدام
طنز کچھ ایسے ملے جن پہ ہو تعریف نثار
دشتِ غربت میں ملے جس طرح کوئی خوددار
راہ چلتے ہوئے دیکھے کئی ذہنی بیمار
قتل و غارت سے بھرے شہر کے سارے اخبار
پھر ترے پیار کو اور ملک کے اس منظر کو
اس قدر ٹوٹ کے چاہا کہ میں خود ٹوٹ گیا

تو نے چاہا تھا کہ میں ٹوٹ کے چاہوں تجھ کو؟؟

*************

سید علی سلمان
 

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer