Latest Post
Loading...

Kuch Bhi Ho Saktay Thay,Taskheer Nahi Hona Tha,Hum Ko Yun Dard Ki Tasveer Nahi Hona Tha




نام:زین شکیل
تاریخِ پیدایش:23 فروری 1992
جائے پیدائش:گجرات
شہر کانام:گجرات
شعری سفر:باقاعدہ شاعری 2014 سے لکھنی شروع کی
شعری مجموعہ: چلو اداسی کے پار جائیں


کچھ بھی ہو سکتے تھے، تسخیر نہیں ہونا تھا
ہم کو یوں درد کی تصویر نہیں ہونا تھا

وہ تو تم آئے تو تھوڑا سا یقیں پختہ ہوا
ہم نے تو قائلِ تقدیر نہیں ہونا تھا!

حوصلہ ہار کے جینا بھی کوئی جینا ہے
گر ہی پڑنا تھا تو تعمیر نہیں ہونا تھا

پاگلا !دیکھتے رہنا تھا روانی کو فقط
ایسے، دریا سے بغلگیر نہیں ہونا تھا

چاہتے ہم تو تجھے روک ہی لیتے لیکن
یوں ترے پائوں کی زنجیر نہیں ہونا تھا

میں جو رانجھا نہ ہوا اس پہ گلہ کیوں لوگو
اُس نے ویسے بھی مری ہیر نہیں ہونا تھا

جیسے اُس شخص کی، اشکوں سے کہانی لکھی
زین یوں اُس نے تو تحریر نہیں ہونا تھا

*************

زخم سارے ہی بھر دیے میں نے
سُکھ تری سمت کر دیے میں نے

وہ مرے سنگ تھا اداس تو پھر
رابطے ختم کر دیے میں نے

دکھ اٹھائے تو اپنے سارے سُکھ
اس کی چوکھٹ پہ دھر دیے میں نے

اب تم آئے ہو خواب لینے کو
جانے کس کو کدھر دیے میں نے

نوچتی تھیں بدن تری یادیں
ان کے ناخن کتر دیے میں نے

اب تجھے صبح تک ستائے گی
رات کے کان بھر دیے میں نے

زین وہ یاد بھی نہ رکھے گا
جتنے احسان کر دیے میں نے

*************

وہ جو لگتا ہے ہمیں جان سے پیارا پاگل
وہ ہے لاکھوں میں فقط ایک ہمارا پاگل

تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبی
میں بتاتا بھی رہا یہ ہے کنارہ، پاگل

ہر کسی سے نہیں امید لگائی جاتی
ہر کوئی دے نہیں سکتا ہے سہارا، پاگل!

وہ بھی قسطوں میں دکھاتا ہے ادائیں اپنی
وہ بھی ہونے نہیں دیتا مجھے سارا پاگل

اس پہ کیا رونا، تمہیں کوئی سمجھتا ہی نہیں
مجھ سے آ کر تو کہو، میں ہوں تمہارا، پاگل!

ساتھ تم تھے تو ہمیں راس تھا پاگل پن بھی
اب ترے بعد کریں کیسے گزارہ؟، پاگل!

دور تم جب سے ہوئے تب سے ہمارے حصے
بس خسارہ ہے، خسارہ ہے، خسارہ، پاگل!

*************

اتنے بے جان سہارے تو نہیں ہوتے ناں
درد دریا کے کنارے تو نہیں ہوتے ناں

رنجشیں ہجر کا معیار گھٹا دیتی ہیں
روٹھ جانے سے گزارے تو نہیں ہوتے ناں

راس رہتی ہے محبت بھی کئی لوگوں کو
وہ بھی عرشوں سے اتارے تو نہیں ہوتے ناں

ہونٹ سینے سے کہاں بات چھپی رہتی ہے
بند آنکھوں سے اشارے تو نہیں ہوتے ناں

ہجر تو اور محبت کو بڑھا دیتا ہے
اب محبت میں خسارے تو نہیں ہوتے ناں

زین اک شخص ہی ہوتا ہے متاعِ جاں بھی
دل میں اب لوگ بھی سارے تو نہیں ہوتے ناں

*************

!اللہ جان

پھرتے ہیں دیوانے لے کر لب پر یہی سوال
اللہ جان! محبت بھیجیں! اس نگری میں کال
اللہ جان! یہ کیسی نگری، ہر سُو درد ہوائیں
رگ رگ اندر شور مچاویں، دل کا درد بڑھائیں
اللہ جان! دریدہ سوچیں لینے دیں نہ چین
بے چینی کی میخیں گڑ گئیں سانسوں کے مابین
اللہ جان !ہمارا پریتم مدت سے مہجور
اکھیاں ترسیں دیکھن کو پر سانول ہم سے دور
اللہ جان! مصیبت بھاری جندڑی ہے کمزور
اک لاوا بے چینی کا ، اک کرے اداسی شور
اللہ جان! زمانے گزرے آنکھیں بھی بے نور
اکھیوں میں ہے آبِ نداست ہم جو آپ سے دور
اللہ جان !یہاں ہر جانب جھوٹوں کے ہیں جال
صادق، سُچّے لب تھے جن پر چُپ کا پڑ گیا تال
اللہ جان! بکھیریں اپنی رحمت کےسب رنگ
قلبِ آلودہ سے اترے اب دنیا کا زنگ
اللہ جان ! ہوئے ہم عاجز اکھیاں زار و زار
آپ کے بن ہم بے حالوں کی سنے گا کون پکار
اللہ جان! جہانوں اندر آپ کا اونچا نام
اب اپنے محبوبؐ کے صدقے بھیجیں سکھ پیغام
روح تلک میں پھیلی نفرت ،جندڑی ہوئی وبال
!اللہ جان! محبت بھیجیں! اس نگری میں کال۔۔۔

*************

مرے پیروں میں زنجیر پِیا
اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا

کب زین اداسی بولے گی
کب بھید تمہارا کھولے گی
کب دیپ بجھیں ان آنکھوں کے
تم مت کرنا تاخیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

*************

تری یاد میں کاٹوں رین پیا
گئی نیند، گیا سکھ چین پیا
تری ایک جھلک تک لینے کو
مرے ترس گئے دو نین پیا
میں خواب نگر کے پار گئی
اک بار نہیں ہر بار گئی
میں رو رو جیون ہار گئی
مجھے تیری جدائی مار گئی
ہر سمت خموشی طاری ہے
اور ہجر بھی ہر سو جاری ہے
ہر رات ترے بن بھاری ہے
اب جندڑی تجھ پر واری ہے
مجھے درد ملے انمول پیا
میں ہستی بیٹھی رول پیا
کبھی میرے دکھ سکھ پھول پیا
”تُو میرا سانول ڈھول پیا“

*************

ان آنکھوں میں ہجر کہیں آباد کیا
دن میں قید کیا شب میں آزاد کیا
ساری عمر تمہارے نام لگا ڈالی
عمر کے اک اک لمحے نے برباد کیا
اب سانسوں میں دور تلک ویرانی ہے

دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔

تم نے کہا تھا خوش رہنا، خوش رہتا ہوں
تم نے کہا تھا ہنس دینا، ہنس دیتا ہوں
اور کوئی گر میرے بارے پوچھے تو
تم نے کہا تھا چپ رہنا، چپ رہتا ہوں
پھر بھی مجھ پر اک دکھ کی سلطانی ہے

دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔

اب بھی ہے معمول وہی، دن، رات وہی
دکھ بھی، دکھ کا طول وہی، اور ذات وہی
اب بھی اکثر تم پر غزلیں کہتا ہوں
اب بھی خود سے کرتا ہوں اک بات وہی
نیا ہے چہرہ پر تصویر پرانی ہے

دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔

دکھ دردوں کی محفل خوب سجاتا ہوں
دکھ سہہ سہہ کر اب میں درد بناتا ہوں
دیواروں کے آنسو بہنے لگتے ہیں
ایسے آنکھ میں بھر کر پانی لاتا ہوں
اب تنہائی بھی میری دیوانی ہے

دیکھو میں نے بات تمہاری مانی ہے۔۔۔

*************

تمہاری روح کا عالم
تمہی جانو
زمانے بھر کے رسم و راہ کو
جی جان سے مانو
مرا کوئی دخل کیسے؟
ترا نعمل البدل کیسے؟
مری آنکھوں کی بجھتی کربلا
اے یار پیاسی ہے
مرا محور اداسی ہے

*************

زین شکیل


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer