Latest Post
Loading...

Main Rasta Hon Magar Musafir Teri Muhabbat Ka Hon


نام:ذوالقر نین حسنی
تاریخ پیدائش: 2 ستمبر 1982
جائے پیدائش: سرگودھا
موجودہ شہر: اسلام آباد
شعری سفر:گھر کا ماحول ادبی تھا تو ادب سے لگاؤ بچپن سے ہو گیا اور لکھنے کا آغاز اسکول کے دور سے کیا۔

بلا عنوان

میں راستہ ہوں
مگر مسافر
تری محبت میں مبتلا ہوں
تمھارے قدموں کا لمس
میری ہزار صدیوں کی پائمالی کا معجزہ ہے
ڈرا ہوا ہوں
تمھارے ذاد۔ سفر سے لگتا ہے
تم نے رستے پہ چھوڑنا ہے
عجیب تر ہے
تمھاری منزل سے تھوڑا پہلے
مجھے بھی دریا میں ڈوبنا ہے

*************

سبک خرام خیالوں سے جان چھوٹ گئی
لو میرے پاؤں کی زنجیر آج ٹوٹ گئی

تو میرے سامنے ہتھیار پھینک کے رویا
یہی ادا تو دل تار تار لوٹ گئی

ہمارے بچے بڑھاپے کو جلد پہنچیں گے
وبا سی کوئی مری بستیوں میں پھوٹ گئی

اے رفتگاں تمہیں آئندگی سے کیا خطرہ
عجیب سوچ یہاں تازگی سے روٹھ گئی

متاعِ عشق بھی حسنی سنبھالنا سیکھو
نگاہ یار میں یہ واردات جھوٹ گئی

*************

تو کڑی دھوپ کا ستارہ ہے
تیرا ہونا مجھے گوارہ ہے

اک سمندر میں ڈوب جانے تک
یہ ہتھیلی بھی تو کنارہ ہے

پس دیوار جھانکتی خواہش
رائیگانی کا استعارہ ہے

ساتویں سمت اس کہانی میں
نئے کردار کا اشارہ ہے

اے خدائے سوال پیچیدہ
اب ترا وصل بھی خسارہ ہے

*************

خواہشِ بد خصال میں قربان 
میری جاں کے وبال میں قربان

جیسی پستی کا ہوں میں شہزادہ
ویسا اوج وکمال میں قربان

تعزیہ یوں سجائیے اب کے
ہو مجھے بھی ملال میں قربان

ہے مباح مجھ پہ طعنہ و تشنیع
چاہے پتھر اچھال میں قربان

توڑئیے جاودانئء بے نطق
پوچھیئے میرا حال میں قربان

*************

لمسِ زندگی

کوئ تو ذکرِبہار چھیڑے

کہ جسم و جاں کے اداس موسم کو

حاجتِ لمسِ زندگی ہے

یہ کیسی فصلِ بہار ہے جو 

نئ تمنا کی کونپلوں سے ڈری ہوئ ہے

نمو کی صورت ہے خود فریبی

بقا کے رستے پہ جیسے قدغن

کوئ تو برسے

کہ دل فگارانِ عہدِ حاضر کی سرخ آنکھوں میں بس گئے ہیں

مضطرب اور نحیف جذبے

وہ صبحِ روشن کے استعارے

اجاڑ دھرتی پہ جل گئے ہیں

بانجھ جسموں میں مر گئے ہیں


*************

ذوالقر نین حسنی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer