Chup Bhi Ho Bak Raha Hai Wa'ez,Maghaz Rindon Ka Kha Gaya Wa'ez
ایک ردیف "واعظ" اور 8 غزل
*************************
امیر مینائی
چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ
مغز رندوں کا کھا گیا واعظ
تیرے کہنے سے رند جائیں گے
یہ تو ہے خانۂ خدا واعظ
اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور
کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ
بے خطا میکشوں پہ چشم غضب
حشر ہونے دے دیکھنا واعظ
ہم ہیں قحط شراب سے بیمار
کس مرض کی ہے تو دوا واعظ
رہ چکا میکدے میں ساری عمر
کبھی مے خانے میں بھی آ واعظ
ہجو مے کر رہا تھا منبر پر
ہم جو پہنچے تو پی گیا واعظ
دخت رز کو برا مرے آگے
پھر نہ کہنا کبھی سنا واعظ
آج کرتا ہوں وصف مے میں امیر
دیکھوں کہتا ہے اس میں کیا واعظ
*************************
بہرام جی
ہو چکا وعظ کا اثر واعظ
اب تو رندوں سے در گزر واعظ
صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار
ہے ہمیں پہلے درد سر واعظ
بزم رنداں میں ہو اگر شامل
پھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ
وعظ اپنا یہ بھول جائے تو
آوے گر یار سیم بر واعظ
ہے یہ مرغ سحر سے بھی فائق
صبح اٹھتا ہے پیشتر واعظ
مسجد و کعبہ میں تو پھرتا ہے
کوئے جاناں سے بے خبر واعظ
شور و غل بند تو نہیں کرتا
ہے تو انساں کہ کوئی خر واعظ
ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل
اپنے باطن کو صاف کر واعظ
بندۂ کوئے یار ہے بہرام
تیری مسجد سے کیا خبر واعظ
*************************
مرزا رفیع سودا
زہے وہ معنیِ قرآں، کہے جو تُو واعظ
پھٹے دہن کے تئیں اپنے، کر رفو واعظ
مجھے یہ فکر ہے تُو اپنی ہرزہ گوئی کا
جواب دیوے گا کیا حق کے روبرو واعظ
خدا کے واسطے چپ رہ، اتر تُو منبر سے
حدیث و آیہ کو مت پڑھ توُ بے وضو واعظ
سنا کسی سے تُو نامِ بہشت، پر تجھ کو
گلِ بہشت کی پہنچی نہیں ہے بُو واعظ
بتوں کی حسن پرستی سے کیا خلل دیں میں
خدا نے دوست رکھا ہے رخِ نکو واعظ
ثبوتِ حق کی کریمی سبھوں پہ ہے لیکن
تری تو نفیِ کرم پر ہے گفتگو واعظ
ڈروں ہوں میں نہ کریں رند تیری ڈاڑھی کو
تبرّکات میں داخل ہر ایک مُو واعظ
ہزار شیشۂ مے اس میں تیں چھپایا ہے
تری جو پگڑی ہے یہ صورتِ سبو واعظ
سخن وہ ہے کہ موثر دلوں کا ہو ناداں
یہ پوچ گوئی ہے جس سے ہے تجھ کو خُو واعظ
کہا تُو مان لے سودا کا، توبہ کر اس سے
لب و دہن کے تئیں کر کے شست و شُو واعظ
*************************
میر کلو عرش
موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظ
کون اس فصل میں سنتا ہے بیان واعظ
دختر رز کی مذمت کا ارادہ تو کرے
کھینچ لونگا ابھی گدی سے زبان واعظ
آج رندان قدح نوش کو اچھی سوجھی
مے کشی کے لیے تاکا ہے مکان واعظ
موسم گل میں جو سنتا ہوں تو میں کہتا ہوں
ہے صدائے سگ دیوانہ بیان واعظ
غول صحرائے شریعت اسے بتلا دیں گے
ہم سے پوچھے تو کوئی نام و نشان واعظ
دور رندوں کا ہے چلتی ہے شب و روز شراب
عہد قاضی ہے نہ باقی نہ زبان واعظ
قتل کر ڈالیے ہر دم یہ خیال آتا ہے
جوش کھاتا ہے لہو سن کے بیان واعظ
کبک کی طرح یہ لوٹے ابھی انگاروں پر
بھٹیاں مے کی جو ہوں زہر مکان واعظ
شکر ہے موسم گل کا اثر اتنا تو ہوا
مے کدہ اب نظر آتا ہے مکان واعظ
بدلے دنبے کے کریں رند اسی کو قربان
عید قرباں میں جو سن پائیں بیان واعظ
عرش اس فصل جنوں میں مرے سودے کی طرح
اور بڑھ جائے الٰہی خفقان واعظ
*************************
جلیل مانک پوری
بیٹھ جا کر سر منبر واعظ
ہو گیا تو تو مرے سر واعظ
مے تو جائز نہیں یہ جائز ہے
روز کھاتا ہے مرا سر واعظ
بند کرتا ہے در توبہ کیوں
کھول کر وعظ کا دفتر واعظ
واعظوں کی میں کروں کیا تعریف
گھر میں مے خوار ہیں باہر واعظ
میکشوں ہی کے لئے ہے یہ بات
جو ہے دل میں وہی لب پر واعظ
دیکھ کس رنگ سے اٹھی ہے گھٹا
تہہ کر اب وعظ کا دفتر واعظ
کس طرح پیتے ہیں پینے والے
دیکھ لینا لب کوثر واعظ
موت بھی آتی ہے تو حیلے سے
آ گیا رندوں میں کیوں کر واعظ
سختیاں رندوں پہ کرتے کرتے
عقل پر پڑ گئے پتھر واعظ
آتش تر کا جو پڑ جائے مزہ
پھونک دے وعظ کا دفتر واعظ
رند آپے سے جو باہر ہیں تو ہوں
تو نہ ہو جامے سے باہر واعظ
شیشۂ دل کا خدا حافظ ہے
تیری ہر بات ہے پتھر واعظ
ذکر مے وعظ میں جب آتا ہے
جھومتا ہے سر منبر واعظ
لے کے آنکھوں سے لگاتا ساغر
پڑھ جو لیتا خط ساغر واعظ
محفل وعظ میں کیوں جاؤں جلیل
ہیں مجھے شیشہ و ساغر واعظ
*************************
قاسم علی خان آفریدی
جتا نہ میرے تئیں اپنا تو ہنر واعظ
تو اپنے فعل سے منہ اپنا خاک بھر واعظ
نصیحت اوروں کو کرتا ہے چڑھ کے ممبر پر
مگر نہیں ہے ترے دل پہ کچھ اثر واعظ
زباں پہ وعظ ہے اور دل ترا ہے استغلاظ
بہ وعظ بیہودہ مت باندھ تو کمر واعظ
عمل بہ وعظ کر اپنے بہ صدق و دل ورنہ
تو اپنے حال کو دیکھے گا در حشر واعظ
بڑھا کے ریش کو اپنی بھی جوں دم طاؤس
یہ کس خیال پہ بھولا ہے ابلہ خر واعظ
خدا کریم ہے چاہے گا جس کو بخشے گا
کسی پہ طعن کی انگشت تو نہ دھر واعظ
تو اپنے وعظ پہ واعظ نہ بھول سچ ہی نہیں
کہ راز عشق سے تیرے تئیں خبر واعظ
مقابلہ بہ بحث مت کر اہل رنداں سے
کہ جس میں آپ کے ہو ریش کا ضرر واعظ
کلام بے نمک و بے اثر سے تو اپنے
خراب مت کرے خلقت خدا سے ڈر واعظ
یہاں وہاں پہ تجھے گر نجات ہے منظور
کسی فقیر کے قدموں پر سر کو دھر واعظ
تو کہیو پیر مغاں سے سلام افریدی
اگر بہ کوئے خرابات ہو گزر واعظ
*************************
حبیب کنتوری
قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ
ایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظ
طرفہ آفت میں پھنسی آتی ہے جان واعظ
کون مے خانہ میں تھا مرتبہ دان واعظ
کیوں نہ مینائے مئے ناب پٹک دوں سر پر
عیش جب تلخ ہو سن سن کے بیان واعظ
اس طرح پند و نصیحت کی اٹھائی تمہید
آج ساقی پہ ہوا مجھ کو گمان واعظ
تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا
کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ
فصل گل آتے ہی مے خانہ میں اک بھیڑ ہوئی
نہ سنی ایک بھی رندوں نے فغان واعظ
پھر در پیر خرابات پہ بیٹھا ہے حبیب
یہ تو آیا تھا ابھی سن کے بیان واعظ
*************************
وزیر علی صبا لکھنؤی
باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ
صورت برگ خزانی ہے زبان واعظ
مصر میں بھی نہ یہ فرعون کا عالم ہوگا
دیکھے مسجد میں کوئی شوکت و شان واعظ
ایک کانٹا سا نکل جائے ہمارے دل سے
سنسیوں سے کوئی کھینچے جو زبان واعظ
قلقل شیشۂ مے سے ترے میکش ساقی
سن رہے ہیں خبر راز نہان واعظ
حال معلوم ہوا نار و جناں کا کیوں کر
اس قدر تو نہیں اونچا ہے مکان واعظ
نام مے وہ ہے کہ لب پر جو کبھی آتا ہے
منہ سے باہر نکل آتی ہے زبان واعظ
میکدے والوں سے دبنے لگے مسجد والے
دور ساقی کا ہے گزرا وہ زمان واعظ
میں بھی وہ ہوں جو مرے آگے کبھی منہ کھولے
کاٹ ڈالوں ابھی دانتوں سے زبان واعظ
اپنے رندوں کی میں ہو حق کا ہوں سننے والا
یا الٰہی نہ سنانا سخنان واعظ
میں پری زادوں کا عاشق ہوں تو وہ حوروں کا
میرے سودے سے ہے بڑھ کر خفقان واعظ
پائے خم بیٹھ کے نشہ میں وہ باتیں کیجے
لوگ سمجھیں سر منبر ہے بیان واعظ
اے صبا خلد میں جاؤں کہ جہنم میں جلوں
نہ سنا ہے نہ سنوں گا میں بیان واعظ
*************************
امیر مینائی
چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ
مغز رندوں کا کھا گیا واعظ
تیرے کہنے سے رند جائیں گے
یہ تو ہے خانۂ خدا واعظ
اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور
کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ
بے خطا میکشوں پہ چشم غضب
حشر ہونے دے دیکھنا واعظ
ہم ہیں قحط شراب سے بیمار
کس مرض کی ہے تو دوا واعظ
رہ چکا میکدے میں ساری عمر
کبھی مے خانے میں بھی آ واعظ
ہجو مے کر رہا تھا منبر پر
ہم جو پہنچے تو پی گیا واعظ
دخت رز کو برا مرے آگے
پھر نہ کہنا کبھی سنا واعظ
آج کرتا ہوں وصف مے میں امیر
دیکھوں کہتا ہے اس میں کیا واعظ
*************************
بہرام جی
ہو چکا وعظ کا اثر واعظ
اب تو رندوں سے در گزر واعظ
صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار
ہے ہمیں پہلے درد سر واعظ
بزم رنداں میں ہو اگر شامل
پھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ
وعظ اپنا یہ بھول جائے تو
آوے گر یار سیم بر واعظ
ہے یہ مرغ سحر سے بھی فائق
صبح اٹھتا ہے پیشتر واعظ
مسجد و کعبہ میں تو پھرتا ہے
کوئے جاناں سے بے خبر واعظ
شور و غل بند تو نہیں کرتا
ہے تو انساں کہ کوئی خر واعظ
ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل
اپنے باطن کو صاف کر واعظ
بندۂ کوئے یار ہے بہرام
تیری مسجد سے کیا خبر واعظ
*************************
مرزا رفیع سودا
زہے وہ معنیِ قرآں، کہے جو تُو واعظ
پھٹے دہن کے تئیں اپنے، کر رفو واعظ
مجھے یہ فکر ہے تُو اپنی ہرزہ گوئی کا
جواب دیوے گا کیا حق کے روبرو واعظ
خدا کے واسطے چپ رہ، اتر تُو منبر سے
حدیث و آیہ کو مت پڑھ توُ بے وضو واعظ
سنا کسی سے تُو نامِ بہشت، پر تجھ کو
گلِ بہشت کی پہنچی نہیں ہے بُو واعظ
بتوں کی حسن پرستی سے کیا خلل دیں میں
خدا نے دوست رکھا ہے رخِ نکو واعظ
ثبوتِ حق کی کریمی سبھوں پہ ہے لیکن
تری تو نفیِ کرم پر ہے گفتگو واعظ
ڈروں ہوں میں نہ کریں رند تیری ڈاڑھی کو
تبرّکات میں داخل ہر ایک مُو واعظ
ہزار شیشۂ مے اس میں تیں چھپایا ہے
تری جو پگڑی ہے یہ صورتِ سبو واعظ
سخن وہ ہے کہ موثر دلوں کا ہو ناداں
یہ پوچ گوئی ہے جس سے ہے تجھ کو خُو واعظ
کہا تُو مان لے سودا کا، توبہ کر اس سے
لب و دہن کے تئیں کر کے شست و شُو واعظ
*************************
میر کلو عرش
موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظ
کون اس فصل میں سنتا ہے بیان واعظ
دختر رز کی مذمت کا ارادہ تو کرے
کھینچ لونگا ابھی گدی سے زبان واعظ
آج رندان قدح نوش کو اچھی سوجھی
مے کشی کے لیے تاکا ہے مکان واعظ
موسم گل میں جو سنتا ہوں تو میں کہتا ہوں
ہے صدائے سگ دیوانہ بیان واعظ
غول صحرائے شریعت اسے بتلا دیں گے
ہم سے پوچھے تو کوئی نام و نشان واعظ
دور رندوں کا ہے چلتی ہے شب و روز شراب
عہد قاضی ہے نہ باقی نہ زبان واعظ
قتل کر ڈالیے ہر دم یہ خیال آتا ہے
جوش کھاتا ہے لہو سن کے بیان واعظ
کبک کی طرح یہ لوٹے ابھی انگاروں پر
بھٹیاں مے کی جو ہوں زہر مکان واعظ
شکر ہے موسم گل کا اثر اتنا تو ہوا
مے کدہ اب نظر آتا ہے مکان واعظ
بدلے دنبے کے کریں رند اسی کو قربان
عید قرباں میں جو سن پائیں بیان واعظ
عرش اس فصل جنوں میں مرے سودے کی طرح
اور بڑھ جائے الٰہی خفقان واعظ
*************************
جلیل مانک پوری
بیٹھ جا کر سر منبر واعظ
ہو گیا تو تو مرے سر واعظ
مے تو جائز نہیں یہ جائز ہے
روز کھاتا ہے مرا سر واعظ
بند کرتا ہے در توبہ کیوں
کھول کر وعظ کا دفتر واعظ
واعظوں کی میں کروں کیا تعریف
گھر میں مے خوار ہیں باہر واعظ
میکشوں ہی کے لئے ہے یہ بات
جو ہے دل میں وہی لب پر واعظ
دیکھ کس رنگ سے اٹھی ہے گھٹا
تہہ کر اب وعظ کا دفتر واعظ
کس طرح پیتے ہیں پینے والے
دیکھ لینا لب کوثر واعظ
موت بھی آتی ہے تو حیلے سے
آ گیا رندوں میں کیوں کر واعظ
سختیاں رندوں پہ کرتے کرتے
عقل پر پڑ گئے پتھر واعظ
آتش تر کا جو پڑ جائے مزہ
پھونک دے وعظ کا دفتر واعظ
رند آپے سے جو باہر ہیں تو ہوں
تو نہ ہو جامے سے باہر واعظ
شیشۂ دل کا خدا حافظ ہے
تیری ہر بات ہے پتھر واعظ
ذکر مے وعظ میں جب آتا ہے
جھومتا ہے سر منبر واعظ
لے کے آنکھوں سے لگاتا ساغر
پڑھ جو لیتا خط ساغر واعظ
محفل وعظ میں کیوں جاؤں جلیل
ہیں مجھے شیشہ و ساغر واعظ
*************************
قاسم علی خان آفریدی
جتا نہ میرے تئیں اپنا تو ہنر واعظ
تو اپنے فعل سے منہ اپنا خاک بھر واعظ
نصیحت اوروں کو کرتا ہے چڑھ کے ممبر پر
مگر نہیں ہے ترے دل پہ کچھ اثر واعظ
زباں پہ وعظ ہے اور دل ترا ہے استغلاظ
بہ وعظ بیہودہ مت باندھ تو کمر واعظ
عمل بہ وعظ کر اپنے بہ صدق و دل ورنہ
تو اپنے حال کو دیکھے گا در حشر واعظ
بڑھا کے ریش کو اپنی بھی جوں دم طاؤس
یہ کس خیال پہ بھولا ہے ابلہ خر واعظ
خدا کریم ہے چاہے گا جس کو بخشے گا
کسی پہ طعن کی انگشت تو نہ دھر واعظ
تو اپنے وعظ پہ واعظ نہ بھول سچ ہی نہیں
کہ راز عشق سے تیرے تئیں خبر واعظ
مقابلہ بہ بحث مت کر اہل رنداں سے
کہ جس میں آپ کے ہو ریش کا ضرر واعظ
کلام بے نمک و بے اثر سے تو اپنے
خراب مت کرے خلقت خدا سے ڈر واعظ
یہاں وہاں پہ تجھے گر نجات ہے منظور
کسی فقیر کے قدموں پر سر کو دھر واعظ
تو کہیو پیر مغاں سے سلام افریدی
اگر بہ کوئے خرابات ہو گزر واعظ
*************************
حبیب کنتوری
قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ
ایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظ
طرفہ آفت میں پھنسی آتی ہے جان واعظ
کون مے خانہ میں تھا مرتبہ دان واعظ
کیوں نہ مینائے مئے ناب پٹک دوں سر پر
عیش جب تلخ ہو سن سن کے بیان واعظ
اس طرح پند و نصیحت کی اٹھائی تمہید
آج ساقی پہ ہوا مجھ کو گمان واعظ
تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا
کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ
فصل گل آتے ہی مے خانہ میں اک بھیڑ ہوئی
نہ سنی ایک بھی رندوں نے فغان واعظ
پھر در پیر خرابات پہ بیٹھا ہے حبیب
یہ تو آیا تھا ابھی سن کے بیان واعظ
*************************
وزیر علی صبا لکھنؤی
باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ
صورت برگ خزانی ہے زبان واعظ
مصر میں بھی نہ یہ فرعون کا عالم ہوگا
دیکھے مسجد میں کوئی شوکت و شان واعظ
ایک کانٹا سا نکل جائے ہمارے دل سے
سنسیوں سے کوئی کھینچے جو زبان واعظ
قلقل شیشۂ مے سے ترے میکش ساقی
سن رہے ہیں خبر راز نہان واعظ
حال معلوم ہوا نار و جناں کا کیوں کر
اس قدر تو نہیں اونچا ہے مکان واعظ
نام مے وہ ہے کہ لب پر جو کبھی آتا ہے
منہ سے باہر نکل آتی ہے زبان واعظ
میکدے والوں سے دبنے لگے مسجد والے
دور ساقی کا ہے گزرا وہ زمان واعظ
میں بھی وہ ہوں جو مرے آگے کبھی منہ کھولے
کاٹ ڈالوں ابھی دانتوں سے زبان واعظ
اپنے رندوں کی میں ہو حق کا ہوں سننے والا
یا الٰہی نہ سنانا سخنان واعظ
میں پری زادوں کا عاشق ہوں تو وہ حوروں کا
میرے سودے سے ہے بڑھ کر خفقان واعظ
پائے خم بیٹھ کے نشہ میں وہ باتیں کیجے
لوگ سمجھیں سر منبر ہے بیان واعظ
اے صبا خلد میں جاؤں کہ جہنم میں جلوں
نہ سنا ہے نہ سنوں گا میں بیان واعظ

Comments
Post a Comment