Main Kahan Teri Dastaan Se Alag Kuch Nahi Dhool Karwaan Se Alag
میں کہاں تیری داستاں سے الگ؟
کچھ نہیں ُدھول، کارواں سے الگ
چاند کتنا عزیز تھا ُاس کو
رات ٹھہری میرے مکاں سے الگ
کچھ نہیں ُدھول، کارواں سے الگ
چاند کتنا عزیز تھا ُاس کو
رات ٹھہری میرے مکاں سے الگ
فصلِ ُگل میں بھی پھول ُمرجھائے
اک خزاں اور ہے خزاں سے الگ
میرے قاتل نظر نہ آ مجھ کو
برق رہتی ہے آشیاں سے الگ
اک خزاں اور ہے خزاں سے الگ
میرے قاتل نظر نہ آ مجھ کو
برق رہتی ہے آشیاں سے الگ
سر کو سودائے سنگ ہے لیکن
سنگ ہو تیرے آستاں سے الگ؟
دو جہاں چھوڑ کر ِملو ُاس سے
وہ کہ رہتا ہے دو جہاں سے الگ
سنگ ہو تیرے آستاں سے الگ؟
دو جہاں چھوڑ کر ِملو ُاس سے
وہ کہ رہتا ہے دو جہاں سے الگ
آؤ آپس میں فیصلہ کر لیں
کس کو ہونا ہے اب کہاں سے الگ؟
دل میں ُاترا تھا جو کبھی محسن
وہ ستارا تھا آسماں سے الگ
کس کو ہونا ہے اب کہاں سے الگ؟
دل میں ُاترا تھا جو کبھی محسن
وہ ستارا تھا آسماں سے الگ

Comments
Post a Comment