Zindagi Ka Zakham Gehra Tha Magar Itna Na Tha Tum Se Pehly Bhi Main Tanha Tha Magar Itna Na Tha
زندگی کا زخم گہرا تھا مگر اتنا نہ تھا
تم سے پہلے بھی میں تنہا تھا مگر اتنا نہ تھا
تم سے پہلے بھی میں تنہا تھا مگر اتنا نہ تھا
اپنے اپنے داغ سب مجھ پر لگانے آ گئے
میرا دامن میلا میلا تھا مگر اتنا نہ تھا
میرا دامن میلا میلا تھا مگر اتنا نہ تھا
میری خوشبو کو نہ راس آئی ہوا کی دوستی
میں گلی کوچوں میں رسوا تھا مگر اتنا نہ تھا
میں گلی کوچوں میں رسوا تھا مگر اتنا نہ تھا
کیا خبر تھی چھین لی جائیں گی آنکھیں بھی مری
ہاں مجھے شوق_تماشا تھا مگر اتنا نہ تھا
ہاں مجھے شوق_تماشا تھا مگر اتنا نہ تھا
ہجر میں رونا، عبادت سے مظفر کم نہیں
تجربہ تو آنسوؤں کا تھا مگر اتنا نہ تھا
تجربہ تو آنسوؤں کا تھا مگر اتنا نہ تھا

Comments
Post a Comment