Roshi K Dairon Rangon Ki Qouson Aur Udti Dhajiyun Ke Darmian Tum Aise Ubhre
خواب
روشنی کے دائروں
رنگوں کی قوسوں
اور اڑتی دھجیوں کے درمیاں
تم ایسے ابھرے
جیسے کوئی سردیوں میں ہاتھ رکھے
تو
ٹھٹھرتے آئنے پر ہو لے ہو لے دھند اترتی ہے
میں پیدا کرنے والے کی طرح بے جسم تھا
اور نور کے اشہب پہ بیٹھا، جس طرف بھی چاہتا تھا
چل نکلتا تھا
نہ جانے کتنے نوری سال
ان آتش سموں سے ناپ آیا تھا
نہ جانے اور کتنے فاصلے
ٹاپوں سے اڑتی گرد سے گہنا کر آ جاتا
نہ جانے کتنی دنیاوں کو سلگا کر
دھواں پہنا کر آ جاتا
کہ یک دم روشنی کے دائروں میں
تم نے اپنے خال و خد کی دھند لہرائی
وہی چہرہ نظر ایا
وہ چہرہ
جس کے گدرائے مساموں سے شعائیں پھوٹتی تھیں
جس پہ پڑ کر دھوپ کے پاوں پھسلتے تھے
میں اپنے ابرووں پر
ہاتھ کا چھجا بنا کر جس کو تکتا تھا
کہ بینائی پہ کوئی آنچ نہ آئے
مجھے اس طرح تکتا دیکھ کر تم جھینپ کر بولیں
بہت روشن ہے دن تو آج کا
ہر چیز اجلی ہے
تو میں نے ادھ کھلی آنکھوں سے سمجھایا
او میرے بے خبر
سورج تو تم نے اک نظر سے چھیل ڈالا ہے
اور اس کاٹے ہوئے سورج کی کترن
بے یقینی سے
تمہاری سبز جرسی کے کھڑے کالر پہ اٹکی ہے
کہ کب تم کسمساو
اور یہ جھڑ کر
تمہارے پاوں کا چندن سنہرے رنگ سے بھر دے
یہ دھندلا چاند باقی ہے
جو اک ٹوٹا ستارہ آسماں میں کیل کر کے
اس سے لٹکا ہے
کہ شاید اس طرح وہ دھجیاں ہونے سے رہ جائے
ہمیں تم مت بناو
چکنی باتیں بس تم اپنے پاس ہی رکھو
یہ کہہ کر تم نے اپنے ڈھلکے آنچل کو جھٹک کر
بائیں کاندھے پر رکھا
تو اس کا پلو آسماں سے لگ گیا
پھر جس قدر ڈھیلے ستارے
آسماں پر چاندنی کے تار سے لٹکے ہوئے تھے
گر پڑے
اور جو قرینے سے لگے تھے
زور سے ہلنے لگے
اور دیر تک ہلتے رہے

Comments
Post a Comment