Muhabbat Ka Khasara
"محبت کا خسارہ"
"Muhabbat Ka Khasara"
از قلم: تسنیم مرزا
محبت کے سفر میں بس
خسارہ ہی خسارہ ہے
جسے ہم یہ سمجھتے ہیں
ہمارا تھا ہمارا ہے
یہ بس نظروں کا دھوکہ ہے
وہم یہ بس ہمارا ہے
اسے جب چھوڑ جانا ہو
یوں بس منہ موڑ جانا ہو
سو جو آخر میں بچتا ہے
وہ ہے بس درد کا دریا
ہمارا تھا ہمارا ہے
جو یہ ہے وہم ہم سب کا
کہ کوئی ہم کو چاہتا ہے
یہی وہ وہم ہے جس نے
کئی لوگوں کو مارا ہے
کبھی بھی سوچ کر دیکھیں
اور اس چاہت کو ہم جانچیں
تو پھر یہ ہم پہ کھلتا ہے
کسی اک بھید کی مانند
کہ چاہت جس کو سمجھا تھا
وہ تھا نظروں کا اک دھوکہ
جو نخلستان دکھتا تھا
وہ تھا صحرا کا اک حصہ
ہمارے ہاتھ جو آیا
وہ بس صحرا ہی سارا ہے
محبت کے سفر میں بس
خسارہ ہی خسارہ ہے
.jpg)
Comments
Post a Comment