So Chand Bhi Chamkeingy Tou Kia Baat Bany Gi Tum Aaye Tou Us Raat Ki Aoqaat Bany Gi



باپ اور بیٹے کے دو شاندار کلام
آپ سب کے ذوق کی نذر

 
جاں نثاراختر

Jan Nisar Akhtar  

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

So Chand Bhi Chamkeingy Tou Kia Baat Bany Gi

Tum Aaye Tou Us Raat Ki Aoqaat Bany Gi

ان سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گے

آخر کوئی تقریب ملاقات بنے گی

Un Se Yahi Keh Aaein Keh Ab Hum Na Mileingy

Aakhir Koi Taqreeb Mulaqaat Banygi

اے ناوک غم دل میں ہے اک بوند لہو کی

کچھ اور تو کیا ہم سے مدارات بنے گی

Ae Navak Gham Dil Mein Hai Ik Boond Lahoo Ki

Kuch Aur Tou Kia Hum Se Madaraat Banygi

یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں

اے عشق ہماری نہ ترے ساتھ بنے گی

Ye Hum Se Na Hoga Keh Kisi Aik Ko Chahein

Ae Ishq Huamari Na Tere Saath Banygi

یہ کیا ہے کہ بڑھتے چلو بڑھتے چلو آگے

جب بیٹھ کے سوچیں گے تو کچھ بات بنے گی

Ye Kia Hai Keh Barhtay Chalo Barhtay Chalo Aagay

Jab Baith Ke Socheingy Tou Kuch Baat Banygi 

جاوید اختر

شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

دل کے دام کتنے ہیں خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سانس کیسے رکتی ہے

کیسے رہ نکلتی ہے کیسے بات چلتی ہے شوق کی زباں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

وصل کا سکوں کیا ہے ہجر کا جنوں کیا ہے حسن کا فسوں کیا ہے عشق کا دروں کیا ہے

تم مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گمرہاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

زخم کیسے پھلتے ہیں داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے کوئی کیسے روتا ہے

اشک کیا ہے نالے کیا دشت کیا ہے چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں

تم کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی زیست بے اماں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

جانتا ہوں میں تم کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے میں اک یہ ماہری بھی ہے

پھر بھی حرف چنتے ہو صرف لفظ سنتے ہو ان کے درمیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

دل کے دام کتنے ہیں خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد جاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سانس کیسے رکتی ہے

کیسے رہ نکلتی ہے کیسے بات چلتی ہے شوق کی زباں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

وصل کا سکوں کیا ہے ہجر کا جنوں کیا ہے حسن کا فسوں کیا ہے عشق کا دروں کیا ہے

تم مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گمرہاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

زخم کیسے پھلتے ہیں داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے کوئی کیسے روتا ہے

اشک کیا ہے نالے کیا دشت کیا ہے چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

نامراد دل کیسے صبح و شام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں

تم کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی زیست بے اماں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

جانتا ہوں میں تم کو ذوق شاعری بھی ہے شخصیت سجانے میں اک یہ ماہری بھی ہے

پھر بھی حرف چنتے ہو صرف لفظ سنتے ہو ان کے درمیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein