Hum Se Ik Bar Bhi Jeeta Hai Na Jeetay Ga Koi
ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری ہیں ستاروں کی براتیں اکثر
اور تو کون ہے جو مجھ کو تسلی دیتا
ہاتھ رکھ دیتی ہیں دل پر تری باتیں اکثر
حسن شائستۂ تہذیب الم ہے شاید
غم زدہ لگتی ہیں کیوں چاندنی راتیں اکثر
حال کہنا ہے کسی سے تو مخاطب ہے کوئی
کتنی دلچسپ ہوا کرتی ہیں باتیں اکثر
عشق رہزن نہ سہی عشق کے ہاتھوں پھر بھی
ہم نے لٹتی ہوئی دیکھی ہیں براتیں اکثر
ہم سے اک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر
ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ہیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتے ہیں باتیں اکثر
ہم نے ان تند ہواؤں میں جلائے ہیں چراغ
جن ہواؤں نے الٹ دی ہیں بساطیں اکثر
جان نثار اخترؔ

Comments
Post a Comment