Kamzor Chobi Astage Par Adakar Har Lamha Khatre Mein Hota Hai



سندھی کے جواں مرگ شاعر حسن درس کی آج بارھویں برسی ہے۔ حسن درس نے اپنے ہم عصروں اور سندھی شاعری پہ گہرے اثرات ڈالے۔ لا ابالی شاعر حسن درس  کی ایک نظم جو ان کی کئی گم شدہ نظموں کی طرح ان کی کلیات میں شامل نہیں ہو سکی
نظم
کم زور چوبی اسٹیج پر
اداکار ہر لمحہ خطرے میں ہوتا ہے
یہ ایک ایسا ڈراما ہے
جس میں سارا ملک مشغول ہے
مصنف گُم ہے
پردہ اُٹھتا ہے
کس نے اُٹھایا؟
معلوم نہیں
پردہ گرتا ہے
کس نے گرایا؟
معلوم نہیں
سارے مُکالمے غیر دانش مندانہ اور سطحی ہیں
اور اداکاری اس سے بھی زیادہ خراب ہے
بہت سی چھوٹی چھوٹی کہانیاں
ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی ہیں
اور ڈرامے کے اندر
ایک دوسرے کوگھسیٹ رہی ہیں
دفعتاً نوجوان لڑکے کو
اسٹیج پر زبردستی بھیجا جاتا ہے
وہ اپنے کردار کے حوالے سے نو عمر ہے
اور یہ کہ معصوم بھی ہے
اس کا حافظہ بھی کم زور ہے
چناں چہ وہ غلط مُکالمے بولنے لگتا ہے
دوسرے افراد چُھپے ہوئے ہیں
اور پردے کے پیچھے
ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھوک رہے ہیں
ہال کے وسط میں صرف ایک کرسی ہے
جو پورے ڈرامے کو دیکھ رہی ہے
نوجوان لڑکا زہر کا پیالہ پیتا ہے
کیوں کہ یہ بھی ڈرامے کا حصہ ہے
تلخی اس کے منہ میں ذائقے کی چابی گھماتی ہے
اور اُس کے چہرے پر تاثرات کا تالا کھل جاتا ہے
وہ کچھ دیر تڑپتا ہے
اور پھر اُٹھ کے کھڑا ہو جاتا ہے
کرسی پھر بھی تالیاں نہیں بجاتی
اب لڑکا اپنے سینے میں خنجر مارتا ہے
وہ مداری کے سامنے لیٹے ہوئے بچے جمورے کی مانند ہے
جسے کچھ دیر کے بعد
آس پاس گرے ہوئے سکے چُننے کے لیے اُٹھنا ہے
اب وہ اپنی کن پٹی پر پستول سے فائر کرتا ہے
اُس کی کان کی لو تک سرخی پھیل جاتی ہے
اور بھیگی ہوئی قمیص زیادہ بھیگ جاتی ہے
اب وہ میز پر کھڑا ہو جاتا ہے
اُس کے نوکیلے جوتے میز کے ،ساتھ، کو ٹُھکراتے ہیں
اور لٹکی ہوئی رسی
اُس کی گردن سے وحشیانہ پیار کرتی ہے
زبان اُس کے منہ سے
سرخ ریشمی کترن کی مانند لٹک جاتی ہے
اور اُس کی آنکھیں باہر اُبلنے لگتی ہیں
جیسے بارش میں بیر بہوٹیاں پُھوٹ پڑتی ہیں
وہ ہوا میں جھولتا ہوا نیچے اُترتا ہے
چوبی فرش پر پیر ٹکاتا ہے
زمین ابھی بھی نیچے ہے
اُس نے آخری بار سنجیدگی سے سوچا
اب مجھے کیا کرنا ہے؟
،کچھ بھی نہیں
ایک غیبی آواز کو صرف اُس نے سُنا
وہ اسٹیج پر چلنے لگتا ہے
کم زور اسٹیج کا آخری کم زور کونا
جہاں کھڑے ہو کر اُس نے ڈرامے سے باہر چھلانگ لگا دی
نیچے حقیقت موجود تھی
اپنی گہری غضب ناکی سمیت
جہاں آدمی حقیقی طور پر ڈوب سکتا ہے
اب وہ کبھی اسٹیج پر نہیں آ سکے گا
سندھی سے ترجمہ:  مصطفٰی ارباب


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein