Aaeingy Ab Kabhi Nahi Hum Teri Dhaak Mein Kar Leingy Ik Izafah Magar Dil Ki Chaak Mein
آئیں گے اب کبھی نہیں ہم تیری دھاک میں
کر لیں گے اک اضافہ مگر دل کے چاک میں
مفلس ہے وہ بھی میری طرح آج یہ کھلا
بیرنگ خط وصول کیا میں نے ڈاک میں
ناکام عشق کے رہے صدمے تمام عمر
جی کر سکون پایا نہ مل کر ہی خاک میں
خوشیوں پے واردات ہوئی صبح شام یاں
نا جانے کیوں ہمیشہ رہے دکھ ہی تاک میں
ہم کو اسیر خواہشوں نے اپنا یوں کیا
مرنے تلک نکیل رہی اپنی ناک میں
ترسے لبوں کی تیری شرینی کو ہم صدا
لپٹا ہوا ملا، ترا گفتار زاک میں
رسماً تو مل رہے ہیں ابھی تک اسے مگر
کچھ جوش دیکھنے کو ملا کم تپاک میں
گرچہ بدیس خود کو کیا دیس سے سہیل
دل اب تلک مقیم وہیں ارضِ پاک میں
سہیل
Suhail

Comments
Post a Comment