Agarche Waswasah Dil Mein Mere Bhi Palta Raha Hawa Ke Dosh Pey Lekin Charagh Jalta Raha
اگرچہ وسوسہ دل میں مرے بھی پلتا رہا
ہوا کے دوش پے لیکن چراغ جلتا رہا
اثر تو کوئی بھی مجھ پے نا بددعا نے کیا
اندھیری راہ پے تنہا ِمگر میں چلتا رہا
لکھی ہوئی تھی مری جیت میرے ماتھے پر
رقیب دیکھ کے اس کو تو ہاتھ ملتا رہا
تمہارا حال بھی ان موسموں کے جیسا ہے
سمے کے سانچے میں تو بھی تو دوست ڈھلتا رہا
سوائے ظرف کے کچھ اور پاس تھا نہ مرے
کسیلی بات کو ہنس کر یونہی نگلتا رہا
نئی امید پے ہر سحر جاگتا میں رہا
اگرچہ آس کا سورج سہیل ڈھلتا رہا
خرم سہیل
Khurram Suhail

Comments
Post a Comment