Aik Chadta Hoa Darya Hai , Utar Jaeiga Yeh Jo Mousam Hai Judaai Ka Utar Jaeiga
ایک چڑھتا ہوا دریا ہے، اتر جائے گا
یہ جو موسم ہے جدائی کا، گزر جائے گا
تیرے وعدوں کو نہیں روگ بنایا دل کا
تھا یقیں مجھ کو تُو اک روز مُکر جائے گا
بے وفائی ہی سہی، اس کو تسلی تو رہے
جاتے جاتے وہ کوئی کام تو کر جائے گا
اس کو معلوم نہیں،اب کے جو بچھڑا مجھ سے
حشر تک نیند میری آنکھ میں بھر جائے گا
کوئی منزل، کوئی رستہ کوئی راہبر ہی نہیں
کس کو معلوم کہ اب کون کدھر جائے گا
سینت کے رکھا ہے یادوں کو تری اس دل میں
ٹوٹ نہ جائے ، کہ سرمایہ بکھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ کوئی ساتھ نہ دے گا اپنا
رائیگاں سب یہ محبت کا سفر جائے گا
فرزانہ ساجد

Comments
Post a Comment