Fiza Mein Aik Alag Sukoot Tari Hoa Wajood Rooh Peh Yakdam Jo Mera Bhari Hoa
فضا میں ایک الگ ہی سکوت طاری ہوا
وجود روح پے یکدم جو میرا بھاری ہوا
یہ وقتِ کوچ ہے اب تو سمیٹ اپنی بساط
یہ حکم حاکمِ اعلی سے اب ہے جاری ہوا
سنبھال اپنی نہیں شوق کھیلنے کا مجھے
تری پرانی سی دنیا سے دل یہ عاری ہوا
نفاق سینوں میں پلنے لگا ہے حد سے پرے
ہنسی لبوں پے، تکلم مگر دو دھاری ہوا
نا جانے کون سا آسیب ہے مرے پیچھے
مجھے تو سائے سے اپنے ہی خوف طاری ہوا
جو دل کی بات قلم کے سپرد کرتا ہو
مری نظر میں وہی اک بڑا لکھاری ہوا
میں پالتا ہی رہا سانپ آستینوں میں
ادھر ہر ایک ہی دشمن ترا حواری ہوا
میں بچ گیا تھا ہر وار سے مگر جو سہیل
یہ وار اس کی زباں کا بہت ہی کاری ہوا
خرم سہیل
Khurram Suhail

Comments
Post a Comment