Har Gham Ko Aansooun Mein Parona Pada Mujhe Khud Se Lepat Ke Aaj Yun Rona Pada Mujhe
ہر غم کو آنسووں میں پرونا پڑا مجھے
خود سے لپٹ کے آج یوں رونا پڑا مجھے
فطرت تھی نیند کی، اسے آنا ضرور تھا
پھر دکھ کی سیج پر بھی سونا پڑا مجھے
یہ دوستی کا سلسلہ رکھنا بحال تھا
خو کے خلاف اپنی بھی ہونا پڑا مجھے
تقدیر کے لکھے کو نا رد کوئی کر سکا
آنکھوں کے اپنی سامنے کھونا پڑا مجھے
مجھ کو رہی تلاش مکمل سکون کی
اپنے ہی گھر میں مل گیا کونا پڑا مجھے
پختہ تھا میرا عہد جو خود سے کیا گیا
بارِ وفا کو لحد تک ڈھونا پڑا مجھے
دل پر مرے ملال کا دھبہ رہا سہیل
اشکوں سے بار ہا اسے دھونا پڑا مجھے
خرم سہیل
Khurram Suhail

Comments
Post a Comment