Humain Darkar Hai Saaya Dua Ka Yaqeenan Fazal Hoga Phir Khuda Ka
ہمیں درکار ہے سایہ دعا کا
یقیناً فضل ہو گا پھر خدا کا
خزانے بخششوں کے گر نہ ہوتے
نفس پُتلا نا ہوتا یوں خطا کا
بڑی ہے تند غم کی دھوپ سر پر
کوئی رخ پھیر دے ٹھنڈی ہوا کا
صدا میری کوئی سنتا نہیں کیوں
کوئی پرسان ہو میری نوا کا
کوئی بھی کام ہوتا ہی نہیں ہے
ہو بیڑہ غرق اس موئی وفا کا
کوئی تو عیب ہے اے کیمیا گر
اثر ہوتا نہیں تیری دوا کا
کہانی میں عجب اک موڑ آیا
یہاں بنتا ہے اب مرنا انا کا
دلوں کو موہ لیتا ہے وہ خرم
بڑا ماہر ہے اس قاتل ادا کا
خرم سہیل
Khurram Suhail

Comments
Post a Comment