Kabhi Ghuroob Ne , Tou Phir Kabhi Tuloo Ne Diya Tera Suraagh Mujhe Bagh Mein Suboo Ne Diya
کبھی غروب نے, تو پھر کبھی طلوع نے دیا
ترا سراغ مجھے باغ میں سبو نے دیا
حدوں سے پار ہوئی جب مری پریشانی
بڑا قرار مجھے دوستو وضو نے دیا
جو بات کرنا تھی تم نے تو مختصر کرتے
زرا مزا نہ مری جان اس غلو نے دیا
جو ظلم جان پر اے دوست تو نے ڈھائے مرے
نہ ایسا زخم کسی ایک بھی عدو نے دیا
یوں جھانکنا نہ پڑا اس کتابِ نسبت کو
ترے نسب کا پتہ تیری گفتگو نے دیا
کسی تسلی نا ہی ڈھاسے نے ہی کام کیا
سکون قلب کو, بس صبر کی نمو نے دیا
مزا سہیل دیا, جیت نے مگر سچ ہے
نہیں دیا, مجھے اتنا جو جستجو نے دیا
سہیل
Suhail

Comments
Post a Comment