Kar Dein Na Manfi Aap Kahein Apni Zaat Se Soya Gaya Na Soch Ke Yun Pichli Raat Se
کر دیں نا منفی آپ کہیں اپنی زات سے
سویا گیا نا سوچ کے یوں پچھلی رات سے
میں تو سمجھ رہا تھا بُھلا میں اُسے چکا
پھر وار دات یاد نے کی اور گھات سے
شرما کے پلو دانت میں الجھا کے رہ گئے
جب میں نے عشق بات نکالی تھی بات سے
جب سے کہا کہ ہفتے میں اک بار ہم ملیں
چڑ ہو گئی ہے تب سے مجھے لفظ سات سے
ہر شے سے مستفید ہوا زندگی میں میں
شکوہ نہیں ہے کوئی مجھے کائنات سے
سونا بنانے کی تو ہوئیں کوششیں بہت
مٹی نکالنا ہے کسی طور دھات سے
اک آپ ہی نہیں، ہیں کئی اور بھی یہاں
جن کو گلے سہیل بہت، میری زات سے
خرم سہیل
Khurram Suhail

Comments
Post a Comment