Din Guzarta Hai Mera Aur Na Shab Hoti Hai
دن گزرتا ہے مرا اور نہ شَب ہوتی ہے
یہ محبت بھی مری جان عَجَب ہوتی ہے
دوسرا عشق تو راس آ گیا لیکن مجھ کو
آج بھی پہلی محبت کی طَلَب ہوتی ہے
دل کسی طور بہلنے میں نہیں آتا ہے
یہ اداسی بھی محبت میں غَضَب ہوتی ہے
دیکھ لینے سے تسلی نہیں ہوتی مجھ کو
دل کو اس سے بھی زیادہ کی طًلَب ہوتی ہے
ایک وحشت ہے ترے قرب کی خواہش لیکن
ایسی وحشت بھی محبت کے سَبَب ہوتی ہے
حِناکوثر

Comments
Post a Comment