Jo Pathar Dil De Raha Hai Woh Andar Se Dhuhaai De Raha Hai
جو پتھر دل دکھائی دے رہا ہے
وہ اندر سے دہائی دے رہا ہے
بہت اجلا بڑا شفاف ہو گا
جو دشمن کی صفائی دے رہا ہے
پرکھنے کو فقط اک ظرف اس کا
وہ انساں کو خدائی دے رہا ہے
میرے پر کاٹ کر صیاد مجھ کو
قفس سے اب رہائی دے رہا ہے
سخاوت سے بھرا دل بخش کر وہ
مجھے اذنِ گدائی دے رہا ہے
مریضِ زیست ہوں مانا مگر وہ
بہت کڑوی دوائی دے رہا ہے
زویا راؤ وفاؔ

Comments
Post a Comment