Woh Nigaah Unki Majaz Thi Kabhi Uth Gai Kabhi Jhuk Gai Tou RAEES Hum Se Yahi Hoa Kabhi Jee Uthay Kabhi Mar Gaye



وہ نگاہ ان کی مجاز تھی کبھی اٹھ گئی، کبھی جھک گئی
تو رئیس ہم سے یہی ہوا،کبھی جی اٹھے، کبھی مر گئے
وہ جو راستے پہ بکھر گئے، وہی منزلوں پہ سنور گئے
جنھیں زندگی نے رلا دیا، وہ تو ہستے ہستے ہی مر گئے
وہ جو دھوپ میں بھی تھے چھاؤں سے، جو تھے سرد جھونکے ہواؤں کے
جو تھے لوگ پتلے وفاؤں کے، وہی لوگ جانے کدھر گئے
نہ کسی کے دل میں جگہ ملی، نہ کسی سرائے پناہ ملی
جو نہ کوئی ہم کو وفا ملی، تو لٹے لٹائے ہی گھر گئے
وہ گئے زمانے کہ عشق تھا، وہ گئے زمانے کہ ہجر تھا
کبھی آپ دل میں پذیرتھے، ابھی آپ دل سے اتر گئے
وہ سرور و کیف بھی چھن گیا، وہ متاعِ جان بھی لٹ گئی
وہ سکون دل کا چلا گیا، سبھی درد دل میں ٹھہر گئے
وہ نزاکتیں مجھے لے اڑیں، تری عادتیں مجھے لے اڑیں
کبھی اِن کو دیکھا تو جی اٹھے، کبھی اِن کو دیکھا تو مر گئے
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، وہ معاہدہ تھا جو پیار کا
مجھے عہد سارےہی یاد ہیں، وہ کہ آپ جن سے مکر گئے
اُسی ایک پل میں گزار لی، شبِ وصل بھی شبِ ہجر بھی
وہ جو ایک پل کے لیے کبھی، مرے پاس آکے گزر گئے
رئیس امرہوی


Comments

Popular posts from this blog

Dukh Ye Hai Mera Yousaf o Yaqoob Ke Khaliq Woh Log Bhi Bichdey Jo Bichadnay Ke Nahi Thay

Mere Tan Ke Zakham Na Gin Abhi Meri Aankh Mein Abhi Noor Hai

Mujh Se Meri Umar Ka Khasara Poochtay Hein Ya'ani Log Mujh Se Tumhara Poochtay Hein